کوئے ستم

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - ظلم کی جگہ، وہ جگہ جہاں ظلم کیا جاتا ہو۔ "جوں جوں فیض کی رہائی کے دن قریب آرہے ہیں. لشکر کے تتر بتر ہونے کا دکھ خود کلامی کی شاعری پیدا کرنے لگا ہے اور کوئے ستم کی خاموشی کھلنے لگی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، فیض شاعری اور سیاست، ١١٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکبی شکل کے ساتھ اردو میں داخل ہوا ماخذ زبان میں اسم ظرف مکاں 'کو' کو یائے اضافت کے ذریعے ایک دوسرے اسم 'ستم' کے ساتھ ملانے سے مرکب اضافی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٨ء کو "فیض شاعری اور سیاست" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ظلم کی جگہ، وہ جگہ جہاں ظلم کیا جاتا ہو۔ "جوں جوں فیض کی رہائی کے دن قریب آرہے ہیں. لشکر کے تتر بتر ہونے کا دکھ خود کلامی کی شاعری پیدا کرنے لگا ہے اور کوئے ستم کی خاموشی کھلنے لگی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، فیض شاعری اور سیاست، ١١٢ )

جنس: مذکر